Posts

خواب وخیال کی باتیں

    خواب وخیال کی باتیں حیدر بھید جہاں کے جیسے خواب کے اندر خواب ایک نقاب اگر اُلٹیں، تو آگے اور نقاب   زندگی میں بہت سارے خواب دیکھے ہیں۔کچھ نیند میں،کچھ سوتے جاگتے میں اور کچھ پوری طرح جاگتے ہوئے۔ایسے خوابوں میں کہیں بعض خواہشیں،کہیں بعض خیالات اور کہیں زمانے کے سلوک کے اثرات بھی ہوتے ہیں اور بہت سارے خواب جیسے قدرت کی طرف سے پیشگی خبر یں ہوتی ہیں،کہیں حوصلہ دینے کے لئے اور کہیں انتباہ کے طور پر یاپیار سے سمجھانے کے لئے۔ اب کچھ عرصہ سے مجھے ایک ہی انداز کے ملتے جلتے خواب دکھائی دے رہے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے ایک ہی خواب کے تسلسل سے گزر رہا ہوں۔ان خوابوں کی تعبیر کی مختلف صورتیں ہیں۔ لیکن ان پر بات کرنے سے پہلے اپنے خوابوں کا خلاصہ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔    پھیلی ہوئی زمین ہے لیکن بے آباد۔۔۔میں مسلسل چل رہا ہوں۔بعض اوقات لگتا ہے کہ میںڈیڑھ دو صدیاں پہلے کے زمانے میں گھوم رہا ہوں اور کبھی لگتا ہے آنے والے زمانے میں پھر رہا ہوں۔ دونوں صورتوں میں سے جو بھی صورت ہومیں مسلسل چل رہا ہوں۔کہیں کہیں اکا دکا انسان نظر آبھی جاتے ہیں تو سب ایک دوسرے سے بے...

حوّا کی تلاش“ کا خلاصہ اور مطالعہ

    اردو میں ایٹمی جنگ کے حوالے سے لکھے گئے پہلے افسانے ” حوّا کی تلاش“ کا خلاصہ اور مطالعہ   ”حوّا کی تلاش“میرا افسانہ ہے جسے میں نے آج سے 45 سال پہلے 1980 ءمیں لکھا تھا اور یہ افسانہ مجلّہ ”اوراق“لاہورشمارہ فروری،مارچ ۱۸۹۱ءمیں شائع ہوا تھا۔ایٹمی جنگ کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے میں نے اس میں ایٹمی جنگ کے بعد کی فضا کو بیان کیا تھا۔دراصل بعض مذہبی کتب میں ملنے والی پیش گوئیوں کومدِ نظر رکھ کر میں نے کچھ غوروفکر سے کام لیا اور کچھ میرے وجدان نے میری رہنمائی کی اور افسانہ ”حوّا کی تلاش“تخلیق ہو گیا۔اس افسانے کے حوالے سے میرا دعویٰ ہے کہ ایٹمی جنگ کے موضوع پر اردو ادب میں لکھا جانے والا یہ پہلا افسانہ ہے۔اگر تحقیقی طور پر کسی اور اردو افسانہ نگار کا افسانہ مجھ سے پہلے سامنے لایا جائے تو میںاس کی اولیت کو تسلیم کرلوں گا لیکن ابھی تک یہی افسانہ اس موضوع پر اردو افسانے کی دنیا کا پہلا افسانہ ہے۔اس افسانے کے بعد میں نے اس موضوع پر مزید دو افسانے لکھے، بعض دیگر افسانوں میں بھی اس کا ضمناََ ذکر آیا۔1998 میںجب انڈیا اور پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے میں نے تب ہی اپنے ...

یورپی یونین کی طرز پر سارک یونین

        یورپی یونین کی طرز پر سارک یونین    مورخہ 17 ستمبر2024 ءکو محترمہ عالیہ شاہ کا ایک ویڈیو پروگرام یوٹیوب پر آیا ۔ااس کا لنک یہاں دے رہا ہوں۔ https://www.youtube.com/live/ nscXotdvMhY?si= oZN3eR0vCfg84pRZ اس میں انہوں نے سادھ گورو جی کا کچھ ذکرِ خیر کیا اور ان کی حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا ذکر کیا۔اس میں برِ صغیر میں امن اور یکجہتی کے لیے گورو جی نے فکر انگیز باتیں کیں۔برِ صغیر کے علاوہ انہوں نے عالمی یکجہتی کے بارے میںبھی اچھے جذبات اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔عالیہ شاہ صاحبہ نے ان کے ان تصورات کی بہت سراہنا کی اور بتایا کہ ان کی باتوں کو بڑے بڑے دانشور اور مفکرین بھی بہت غور سے سنتے ہیں۔مجھے بھی سب سن کر اچھا لگا۔میں نے اپنی خوشی کا اظہار اسی وقت کمنٹ سیکشن میں ان الفاظ میں کر دیا۔    ”آپ کا پروگرام سنا، اچھا لگا۔سادھ گورو جی کا تصور بہت اچھا لگا۔مجھے اس لیے بھی یہ باتیں اچھی لگیں کہ میں بیس بائیس سال پہلے اپنے انداز میں یہ باتیں لکھ چکا ہوں۔جرمنی میں رہ کر یورپی یونین کے ماڈل کو دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا اور میں ن...

ایٹمی جنگ کا خطرہ

      ا یٹمی جنگ کا خطرہ ( افسانوی مجموعہ” ایٹمی جنگ“ کا پیش لفظ)     کل تک برِ صغیر کے باشندوں کی بڑی اکثریت عالمی سطح پر ایٹمی جنگ کے کسی امکان سے بھی بے خبر یا بے نیاز تھی۔لیکن اس برس پہلے انڈیا نے اور پھر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے برصغیر کے عام آدمی کو بھی ایٹمی جنگ کی تباہ کاری سے باخبر کر دیا ہے۔انڈیا اور پاکستان نے ایٹمی دھماکے نہ کیے ہوتے ،تب بھی یہ حقیقت ہے کہ پوری دنیا ایٹمی بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے۔اب اس بارود میں مٹھی بھر اضافہ ہوا ہے۔دنیا کی بڑی اور ایٹمی طاقتوں کے پاس ایٹمی اسلحہ کا جو ذخیرہ موجود ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق اس پورے کرّہ ¿ ارض کو پانچ بار فنا کرنے کے لیے کافی ہے۔سوویت یونین کی شکست و ریخت سے سرد جنگ کا خاتمہ ہوا ہے ٭ لیکن ایٹمی اسلحہ تو بدستور موجود ہے۔ایٹمی میزائلوں کا کمپیوٹرائزڈ سسٹم کبھی کسی فنی خرابی کا شکار ہو گیا تو یہ فنی خرابی بھی پوری دنیا کی بربادی کا باعث بن سکتی ہے۔لیکن کل تک ہم لوگوں کی بھاری اکثریت اس خطرے کے ادراک سے بے خبر تھی۔بے شک بے خبری ایک نعمت ہے۔    ۰۸۹۱ءکے وسط میں میرا ذہن ...

عندلیب۔۔رشتوں کی کاک ٹیل

    عندلیب۔۔رشتوں کی کاک ٹیل      عندلیب سے میری کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم اکثر ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں۔پہلی بار جب عندلیب نے مجھ سے رابطہ کیاتو بڑے دھماکہ خیز انداز میںمیسج بھیجا۔ ان کی ڈی پی پر میں نے ان کی تصویر دیکھی تو سوچا کسی مرد نے جان بوجھ کر عورت کے روپ میں رابطہ کیا ہے۔لیکن جب تصدیق ہو گئی کہ یہ آپ ہی ہیں اور اپنی تصویر سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں تو میں بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔رابطہ بڑھا،شناسائی بڑھی تو معلوم ہوا کہ آپ مزاجاََ بہت خوش اخلاق ہیں ،اتنی زیادہ خوش اخلاق کہ سامنے والا اچھی خاصی خوش فہمی میں مبتلا ہو جائے۔دو تین بار ایسا ہوا کہ ایسے مردجو”گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دَم ہے“کی تصویر تھے ان کی بیویوں کو بھی غش پڑ رہے تھے۔مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ ان کی خوش اخلاقی سے شعروادب کی قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں بھی متزلزل ہو گئی تھیں۔کسریٰ کی سلطنت تو جیسے غلط فہمی کے زلزلے کی زد میں آکر اپنے ہی ملبے تلے دب گئی تھی اورہاتھ میں جنبش نہ ہونے کے باوجودخوش فہمی سے قیصر کی سلطنت بھی لرزہ براندام تھی...

ماں دی اِے موم بتی اِے

    ماں دی اِے موم بتی اِے جتنی اچھی صورتیں ہم کو ملِیں اتنے ہی خانوں میں حیدر بٹ گئے     میرا ٹین ایج کا پہلا سال تھا اور وہ لگ بھگ آٹھ نو سال کی تھی۔میںٹین ایج میں بہت شرمیلا تھا۔انتہائی شریف، بعد میں جوانی بھی اسی شرمیلے پن اور شرافت میں گنوادی۔لیکن میں حقیقتاََ اتنا شریف نہیں تھا،بس گھر میں اچھائی برائی کا جو سبق سکھایا گیا پھر معاشرے میں جس طرح کی روایات تھیں ان سب کے پیشِ نظر میں اتنا شریف ہو گیا تھا کہ کوئی اچھی سی ”گندی بات“سوچتے ہوئے بھی گھبراتا تھا کہ اپنے آپ میں سوچتے ہوئے بھی کسی اور کو اس کی بھنک پڑ جائے گی ا ورپھر امی ،ابو کو کیا منہ دکھاو ¿ں گا۔   تیرہ سال کی عمر میں کچی محبت کاایک عجیب تجربہ ہوا۔گھر کے قریب ایک چائے خانہ تھا،وہاں دودھ دہی بھی فروخت ہوتا تھا ۔ مجھے دہی لینے کے لئے بھیجا گیا۔میں کھڑا تھا ،دوکاندار کا بیٹا مجھ سے دو تین سال چھوٹا تھاوہ پہلے گاہکوں کو بھگتا کر میری طرف مڑاتو میرے ساتھ وہ بھی کھڑی ہوئی تھی۔دوکاندارکا بیٹا میری طرف متوجہ ہوا تو وہ آگے بڑھ کر بولی پہلے مجھے دہی دو،مجھے لگتا ہے وہ مجھ سے پہلے آئی ہوئی تھی۔لڑ...

چھَلّا

  چھَلّا       خان پور میں ہمارے گھر کے دائیں بائیں دو ویہڑے تھے۔ایک سیال فیملی کا ویہڑہ اور ایک موہانڑاں فیملی کا ویہڑہ۔۔۔۔سیال فیملی کا تھوڑا بہت ذکر میری یادوں میں آچکا ہے لیکن موہانڑاں فیملی کا ذکر نہیں آیا۔موہانڑاں(ملّاح اور مچھیرے) فیملی میں بابا جی کے ایک دو شاگرد تھے۔اباجی نے اس فیملی کے دو بندوں کو شوگر مل کے ایک چھوٹے سے ٹھیکے میں کام دیا تھا۔محلے داری کے حساب سے اس ویہڑے کی بڑی عمر کی خواتین سے امی جی کا ملنا جلنا تھا۔اسی محلے داری کے نتیجہ میں مبارکہ کا بھی وہاں آنا جانا ہوا۔ویسے تو ساری ملنے والیاں ہی اچھی تھیں لیکن ان میں سے تین تو مبارکہ کی بہترین سہیلیاں بن گئی تھیں۔یہ تین کزنز تھیں۔حسینہ،زَینو اور چھلا۔۔۔اسی ویہڑے میں میرے دو خاص دوست تھے۔ خلیل اورمحمد امین۔خلیل سے میری اچھی دوستی تھی اور اس کی بیوی حسینہ ،مبارکہ کی سب سے بہترین دوست تھی۔امین آٹھویں تک میرا کلاس فیلوبھی تھا۔بہر حال خان پور میں قیام کے دوران1982تک ان سارے لوگوں سے اور سارے ویہڑے سے میل جول رہا۔  چند دن پہلے خان پور سے مرزا حبیب نے کسی نوجوان شفیق تبسم کی تصویر بھیجی ...