خواب وخیال کی باتیں
خواب وخیال کی باتیں
حیدر بھید جہاں کے جیسے خواب کے اندر خواب
ایک نقاب اگر اُلٹیں، تو آگے اور نقاب
حیدر بھید جہاں کے جیسے خواب کے اندر خواب
ایک نقاب اگر اُلٹیں، تو آگے اور نقاب
زندگی میں بہت سارے خواب دیکھے ہیں۔کچھ نیند میں،کچھ سوتے جاگتے میں اور کچھ پوری طرح جاگتے ہوئے۔ایسے خوابوں میں کہیں بعض خواہشیں،کہیں بعض خیالات اور کہیں زمانے کے سلوک کے اثرات بھی ہوتے ہیں اور بہت سارے خواب جیسے قدرت کی طرف سے پیشگی خبر یں ہوتی ہیں،کہیں حوصلہ دینے کے لئے اور کہیں انتباہ کے طور پر یاپیار سے سمجھانے کے لئے۔ اب کچھ عرصہ سے مجھے ایک ہی انداز کے ملتے جلتے خواب دکھائی دے رہے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے ایک ہی خواب کے تسلسل سے گزر رہا ہوں۔ان خوابوں کی تعبیر کی مختلف صورتیں ہیں۔ لیکن ان پر بات کرنے سے پہلے اپنے خوابوں کا خلاصہ بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔
پھیلی ہوئی زمین ہے لیکن بے آباد۔۔۔میں مسلسل چل رہا ہوں۔بعض اوقات لگتا ہے کہ میںڈیڑھ دو صدیاں پہلے کے زمانے میں گھوم رہا ہوں اور کبھی لگتا ہے آنے والے زمانے میں پھر رہا ہوں۔ دونوں صورتوں میں سے جو بھی صورت ہومیں مسلسل چل رہا ہوں۔کہیں کہیں اکا دکا انسان نظر آبھی جاتے ہیں تو سب ایک دوسرے سے بے گانہ و بے تعلق ہیں ۔ خوشی یا غم کے ،محبت یا نفرت کے ہر احساس سے بالکل عاری ہیں۔میرا چلنے کا عمل ہر خواب میں جاری ہے۔بعض مقامات پر عمارتیں اور گزرگاہیں موجود ہیں لیکن وہاں بھی ویرانی ہے،کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا۔بعض علاقوں کی عمارتیں جلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جیسے کسی جنگ کا نشانہ بننے والے شہر ہوں۔ایک موقعہ پر اونچے نیچے رستوں سے گزرتا ہوا ایک ٹیلے جیسی جگہ پر پہنچتا ہوں تو سامنے نیچے ایک دیہاتی طرز کا تالاب دکھائی دیتا ہے۔ساتھ ہی کچھ ہریالی بھی موجود ہے،شاید ایک دو درخت بھی ہیں۔وہاں ایک دو بچیاں اور ایک دو بچے موجود ہیں لیکن وہ بھی بالکل خاموش۔لگتا ہے تالاب سے پانی بھرنے آئے ہیں ۔بے آباد راستوں سے گزرتے ہوئے ایک بار چلتے چلتے مجھے کچھ تھکن کا احساس ہوتا ہے اور میں سوچتا ہوں کاش یہاں کہیں ہریالی مل جائے ۔تب ہی مجھے پتوں سے بنا ہوا ایک کھلا دروازہ دکھائی دیتا ہے۔میں بڑی خوشی کے ساتھ اس کے اندر داخل ہوتا ہوں تو وہ بہت سرسبز جگہ ہے ، وہاں جنگل کے بعض بے ضرر اور بعض ہلکے سے شرارتی جانور بھی ہیں،مجھے انہیں دیکھ کر اچھا لگتا ہے لیکن چند قدم چلنے کے بعد جیسے میری روح فنا ہو جاتی ہے۔سامنے تین اطراف میں تین ببر شیر کھڑے ہیں۔ایک تو میرے بالکل قریب اور عین سامنے ہے۔ شیرسمیت سارے جانور بالکل خاموش ہیںلیکن شیر مجھے دیکھ رہا ہے۔میں سوچتا ہوں یہاں سے واپس بھی جانا چاہوں تو میرے چند قدم چلنے تک ہی شیر جمپ کرکے مجھ تک پہنچ جائے گا۔ایسی صورت جب بھی آتی ہے ساتھ ہی آنکھ کھل جاتی ہے۔
انہیں خوابوں کے تسلسل میں ایک خواب یہ تھا کہ صدیوں پرانے طرز کا U ٹائپ کا بازار ہے۔لوگوں کا بڑا ہجوم دائیں طرف سے آتا جا رہاہے اور بائیں جانب مڑ کر رواں دواں ہے لیکن سب لوگ خاموش اور ایک دوسرے سے بے تعلق ہیں،بس چلتے جا رہے ہیں۔دائیں جانب والا بازار شامیانے کی طرز سے پرانے چھپروں جیساڈھکا ہوا ہے اور بائیں جانب والا کھلم کھلا ہے۔ ایک دو خوابوں میں جیسے آج کے زمانے کی بس میں بیٹھے ہیں۔لوگوں کا رش بہت زیادہ ہے۔میں کھڑکی اور آگے والے دروازے کے ساتھ ہوں پھر بھی گھٹن محسوس ہوتی ہے اور میںلمبے سانس لیتا ہوا اٹھتا ہوں کہ بس سے نیچے اتر جاو ¿ں۔اس طرز کے سارے خوابوں کے ساتھ ایک خواب یہ تھا کہ میں زمین کے کسی ایسے زاویے پر کھڑا ہوں جہاں سے میں پورے گلوب کو اپنے محور پر گھومتے ہوئے دیکھ رہا ہوں،پورے گلوب میں لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیںلیکن سب خاموش اور ایک دوسرے سے بے تعلق،ہر احساس سے بے گانہ۔۔میں پوری زمین کو گردش کرتے ہوئے دیکھ کرحیران ہوتا ہوں ،مجھ پر ایک ہیبت سی طاری ہوتی ہے لیکن میں خوفزدہ نہیں ہوں بلکہ بے حدحیران ہوں۔مجھے لگتا ہے یہ الوہی شان و شوکت کی اور جاہ و جلال کی ایک جھلک ہے۔تب ہی میں آواز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرنے لگتا ہوںاور اس نظارے کو بھی دیکھتا رہتا ہوں۔
خوابوں کے اس تسلسل کی تعبیر کیا ہو سکتی ہے؟ کوئی دوست بتا سکیں تو خوشی ہو گی۔میں نے اپنے طور پر ان کی تفہیم کی جواور جتنی کوشش کی ہے اسے بیان کر دیتا ہوں۔
پھیلی ہوئی بے آباد ز مین اور اس میں مسلسل چلتے جاناکی مذہبی زبان میں تعبیر دیکھیں تو یہ حق،سچ کی تلاش میں سرگردانی ہے۔ممکن ہے یہ بھی ہو لیکن مجھے ایسا سمجھنے میں اس لئے تامل ہے کہ ان کے دوش بدوش میرے بعض خواب تو بہت ہی زبردست ہیں۔مثلاََایک یہ کہ ایک کچی سڑک بہت آراستہ و پیراستہ ہے۔اس کے دائیں،بائیں جانب قدِ آدم سے کچھ نکلتے ہوئے پودے ہیںان کی ہریالی میںروشنی، تازگی،اورچمک کا خوش کن احساس ہوتا ہے ۔ایسا سبز رنگ میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔مبارکہ میرے ساتھ ہے۔ہم دونوں اس سڑک پر چہل قدمی کر رہے ہیں،آسمان سے ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی ہے ۔ہم دونوں اس سارے مجموعی منظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ایک اورخواب میں مبارکہ اور میں کسی پرانی طرز کے شہر کی ایک گلی میں کھڑے ہیں۔ہمارے سامنے ایک بہت بڑا سمندر ہے۔یہ ایسے خوبصورت اور انوکھے نیلے رنگ کا سمندر ہے کہ دنیا میں ایسا نیلا رنگ نہیں دیکھا۔اپنی چمک دمک کے باوجود یہ نیلا سمندر شفاف ہے۔اس کے اندر کی مخلوق بھی دکھائی دے رہی ہے۔سمندر کے اوپر ہواو ¿ں کا ایسا بہاو ¿ ہے جو ہمیں صاف دکھائی دے رہا ہے۔لگتا ہے ہوا کی لہریں ،سمندر کی لہروں کے ساتھ کھیل رہی ہیں یا سمندر پر لہراتی اور بل کھاتی ہوئی چلی جا رہی ہیں۔تیسرے خواب میں ایک روشن گھر دیکھا جو میرا ہے۔اس میں داخل ہونے کے لئے آگے بڑھتا ہوں تو مجھے چمکتی ہوئی چابیاں ملتی ہیں۔یہ دیکھنے میں سفید سونے کی بنی ہوئی ہیں جن میں ہلکی سی سنہری چمک بھی ہے۔اس سے آگے کے مزید بہت سارے احوال میری کتاب”بیماری یا روحانی تجربہ“میں موجود ہیں۔۔۔یہ تین خواب اس لئے بیان کر دیئے ہیںتا کہ ان دونوں طرح کے خوابوں کی تعبیر ابنِ سیرین کے ساتھ فرائڈ کے تعبیر نامہ کی رو سے بھی سامنے رہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ میرے مسلسل چلتے چلے جانے والے خواب نئے زمانے کے نئے حالات اور عالمی منظرکے باعث فرائڈکی تعبیرات سے زیادہ بہتر طور پر سمجھ میں آتے ہیں۔باقی واللہ اعلم بالصواب۔
میرے خوابوں میں میری نفسیات،میرے مطالعہ،مشاہدہ،خیالات،خواہشات کا عمل دخل بھی ہو سکتا ہے۔کبھی گزرے زمانے کی کشش ڈیڑھ دو صدیاں پہلے کی جھلک دکھاتی ہے تو کہیں دنیا کی شاندار ترقیات کے باوجود ایٹمی جنگ کی تشویش امکانی طور پر آنے والے خدشات کی طرف متوجہ کرتی ہے۔میری مختلف تحریروں میںیہ فکر مندی اور تشویش پہلے سے موجود ہے۔صرف دو حوالے بطور نمونہ :
”ہم وسیع تر خلائی دور(سپیس ایج)میں داخل ہونے والے ہیں۔ہاں ایک ڈر ضرور ہے،اگر ہم کسی عالمی یا علاقائی حماقت کے نتیجہ میں ایٹمی جنگ کا شکار ہو گئے توپھر سپیس ایج کی بجائے پتھر کے زمانے میں چلے جانے کا خطرہ بھی سروں پر موجودہے۔“(اردو ادب اور الیکٹرانک میڈیا۔۔مشمولہ ”مضامین و مباحث“ از حیدر قریشی)
” ۰۸۹۱ءکے وسط میں میرا ذہن بار بار ایٹمی جنگ کے امکانی خطرہ کی طرف جاتا تھا۔بعض آسمانی صحیفوں اور مذہبی کتب میں مجھے ایک بڑی تباہی کی خبریں پڑھنے کو ملیںتو میرے اندر کی بے چینی نے مجھ سے کہانی ”حوّا کی تلاش “لکھوائی۔اس میں ایٹمی جنگ کے بعد کی فضا کو آسمانی صحیفوں اور مذہبی کتب کی روشنی میں دیکھنے کی کاوش تھی۔میری یہ خواہش کہ میں رہوں نہ رہوں،نسلِ آدم اس دھرتی پر آباد رہنی چاہئے ، اس کہانی میں کہانی کے تقاضے کے مطابق آئی تھی۔“ (پیش لفظ ”ایٹمی جنگ“ از حیدر قریشی جولائی 1998 )
میں ”حوّا کی تلاش“میں ،پوری کہانی میںمارا مارا پھر رہا ہوں۔چاروں جانب ایٹمی جنگ کی تباہ کاریاں پھیلی ہوئی ہیںاور میں بہت سارے ویران اور برباد راستوں سے گزر رہا ہوں۔کسی سمت کا کوئی تعین نہیں ہے،بس چلتا جا رہا ہوں۔پھر اس دوران ایک سرسبز باغ بھی آتا ہے ،اس میں ایک فوارہ بھی ہے لیکن اس باغ کے سارے پھل اور فوارے کا پانی، سب زہریلے ہو چکے ہیں۔خواب والے جنگل میں شیر کو دیکھ کر خوف آتا ہے تو ”حوّا کی تلاش“میں باغ کے پھل اور پانی کے زہریلے ہونے کے باعث موت کا خوف ہے۔باغ سے گزر کر ایک شہر میں داخل ہوتا ہوں،وہاں ساری عمارتیں سلامت ہیں مگر ارضی زندگی زہریلی گیس کا شکار ہو چکی ہے۔ ”حوّا کی تلاش“کے یہ مناظراور فضا یاد کر رہا ہوں تو مجھے لگ رہا ہے کہ میرے حالیہ خوابوں میں جیسے یہی فضا اور یہی مناظر روپ بدل بدل کر آ رہے ہیں۔اب جبکہ ایٹمی جنگ کے ہونے کے خطرات کافی بڑھ گئے ہیں،لگتا ہے کہ ان خطرات کا ادراک کرتے ہوئے میری کہانی ”حوّا کی تلاش“کچھ شعوری اور کچھ غیر شعوری طور پرمجھے میرے خوابوں میں گھماتی پھر رہی ہے۔ایسا ہے تو کچھ برا نہیں ہے۔دنیا ایٹمی جنگ سے محفوظ رہے اور میری کہانی صرف مجھے میرے خوابوں میں گزارتی رہے تو میں اس کے لئے بخوشی راضی ہوں۔بخوشی راضی ہونے کی دو وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ یہ کہ میں بچپن ہی سے دھرتی پر انسانی زندگی کی سلامتی کی دعا کرتا آرہا ہوں۔اسے میری نفسیات کا حصہ سمجھ لیں۔ثبوت کے طور اپنے انشائیہ ”چشمِ تصوّر“ کا ابتدائی حصہ پیش کر دیتا ہوں:
”مجھے پانچ چھ سال کی عمر میں ہی خدا اور قیامت کے بارے میں ڈھیر ساری باتیں بتادی گئی تھیں، جن میں سے بہت کم باتیں میری سمجھ میں آسکیں۔تاہم ان تمام باتوں کا مجموعی تاثر ایک خوف کی صورت مجھ پر مسلّط ہوگیا۔ مکمل فنا(قیامت) کا تصوّر مجھ پر گھبراہٹ طاری کردیتا۔ میں چشمِ تصوّر سے دیکھتا کہ زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے کہیں کچھ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ہولناک خلا کا تصوّر میرے ذہن میں آتا اور میرا دل جیسے اس خلا میں ڈوبنے لگتا۔ پھر کبھی میں چشمِ تصوّر سے دیکھتا کہ ساری کائنا ت تو موجود ہے لیکن انسان کا وجود نہیں ہے اور اس خیال کے ساتھ ہی مجھ پر ایک عجیب سا اضطراب طاری ہوجاتا ہے اور میں خدا سے دعا کرنے لگتا کہ مولا!۔۔ میںبے شک نہ رہوں مگر یہ دنیا اور اس دنیا میں انسانی زندگی کو کبھی ختم نہ کرنا۔“
یہ بچہ 28 سال کی عمر تک پہنچا تو ایٹمی جنگ کی قیامتِ صغریٰ کے احساس نے اسے تشویش میں مبتلا کر دیااور اس نے تخلیقی سطح پر اپنی تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔کچھ بھی ہو جائے دھرتی پر انسانی نسل کو قائم رہنا چاہیے۔اپنے خوابوں میں ”حوّا کی تلاش“کے مختلف مناظرکے گزرتے رہنے اور اپنے مسلسل چلتے رہنے پر راضی رہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کہانی کے آخر میں دھرتی پر بچ جانے والے آخری مرد کوآخر کار حوّا مل جاتی ہے اور وہ مطمئن ہو جاتا ہے کہ اب آدم کی نسل دھرتی پر قائم رہے گی۔خواب میں بھی اگرکہانی والی حوّا مل جائے تو خوشی کی بات ہے۔ باقی اب میں 73 برس کا ہونے والا ہوں،میں کہانی کار ہوں ، خدا نہ کرے کہ ایسا ہو لیکن اگر میرے بعد بھی ایٹمی جنگ ہوجاتی ہے تواس میں بچ جانے والا ہر مرد میں ہی ہوں گا اور بچ رہنے والی ہر عورت حوّا ہو گی اور ہم ہر روپ میں دھرتی پر انسانی نسل کو قائم رکھیں گے۔
خوابوں کے وہ حصے جہاں لوگ تو ہیں لیکن سب ایک دوسرے سے بے گانہ اور ہر احساس سے عاری،پھر بس میں رش اور گھٹن کا احساس،اور میرا پوری زمین کو گھومتے ہوئے نظارہ کرنا،ان کے بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل لگ رہا ہے۔ویسے میری ایک کہانی کا عنوان ”گھٹن کا احساس“ ممکن ہے اسی کے اثرات خواب میں جھلک دکھا رہے ہوں۔لیکن ایک دوسرے سے بے گانہ لوگوں کا ہجوم اور اپنے محور پر گھومتی ہوئی زمین کو دیکھنا کیا معنی رکھتا ہے؟ اس کے لئے ابھی انتظار کر لیتے ہیں۔فرائڈ سے بھی پوچھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment