ماں دی اِے موم بتی اِے

 

 ماں دی اِے موم بتی اِے

جتنی اچھی صورتیں ہم کو ملِیں
اتنے ہی خانوں میں حیدر بٹ گئے


    میرا ٹین ایج کا پہلا سال تھا اور وہ لگ بھگ آٹھ نو سال کی تھی۔میںٹین ایج میں بہت شرمیلا تھا۔انتہائی شریف، بعد میں جوانی بھی اسی شرمیلے پن اور شرافت میں گنوادی۔لیکن میں حقیقتاََ اتنا شریف نہیں تھا،بس گھر میں اچھائی برائی کا جو سبق سکھایا گیا پھر معاشرے میں جس طرح کی روایات تھیں ان سب کے پیشِ نظر میں اتنا شریف ہو گیا تھا کہ کوئی اچھی سی ”گندی بات“سوچتے ہوئے بھی گھبراتا تھا کہ اپنے آپ میں سوچتے ہوئے بھی کسی اور کو اس کی بھنک پڑ جائے گی ا ورپھر امی ،ابو کو کیا منہ دکھاو ¿ں گا۔
  تیرہ سال کی عمر میں کچی محبت کاایک عجیب تجربہ ہوا۔گھر کے قریب ایک چائے خانہ تھا،وہاں دودھ دہی بھی فروخت ہوتا تھا ۔ مجھے دہی لینے کے لئے بھیجا گیا۔میں کھڑا تھا ،دوکاندار کا بیٹا مجھ سے دو تین سال چھوٹا تھاوہ پہلے گاہکوں کو بھگتا کر میری طرف مڑاتو میرے ساتھ وہ بھی کھڑی ہوئی تھی۔دوکاندارکا بیٹا میری طرف متوجہ ہوا تو وہ آگے بڑھ کر بولی پہلے مجھے دہی دو،مجھے لگتا ہے وہ مجھ سے پہلے آئی ہوئی تھی۔لڑکے نے پتہ نہیں کس لہر میں کہہ دیا ۔۔۔
تمہیں پتہ نہیں یہ حیدر صاحب ہیں۔پہلے انہیں دوں گا۔
جواباََ وہ لڑکی تنک کر بولی کون ہے اوئے حیدر؟۔۔۔
دوکاندار نے میری طرف اشارا کیا،اسی لمحے میں ہم دونوں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک دوسرے کو دیکھااور میں تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔عجب جادوبھری آنکھیں تھیں اس کی، لیکن میری نام نہاد شرافت اور درحقیقت بزدلی نے مجھے دوسری بار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی جرات نہ دی۔مجھے نہیں پتہ پہلے دہی کسے ملی،بس اس کے دبنگ انداز”کون ہے اوئے حیدر؟“نے دل میں کوئی موم بتی سی جلا دی۔موم کو چھوو ¿ توشعلہ جلا نے کو لپکے،ویسے دیکھو تو جگمگ جگمگ ۔۔۔لیکن چھونا تو دور کی بات ہے، دیکھنے کی ہمت بھی نہیں تھی۔
   ہمارے گھر سے غربی جانب سڑکو سڑک جائیں تو لیفٹ سائیڈ پر پہلے بڑا سا موڑ آتا ہے۔یہ محلہ خواجگان کے بازارمیں سے گزرتا ہوا جیٹھہ بھٹہ بازار کی طرف لے جاتا ہے۔لیکن اگر موڑ مڑے بغیر آگے چلتے جائیں تو پھر لیفٹ سائیڈ پر ایک اور موڑ آتا ہے،یہ بھی گلیوں سے نکالتا ہوا جیٹھہ بھٹہ بازار تک لے جاتا ہے۔لیکن اگر بدستور آگے بڑھتے جائیں تو وہاں پھر ایک موڑ آتا ہے۔یہ بھی اسی بازار کی طرف لے جاتا ہے لیکن اگر دائیں جانب دیکھیں تو کچہری اور پھر ماڈل ٹاو ¿ن کی طرف رستہ جاتا ہے۔لیفٹ سائیڈ کے اسی تیسرے موڑ سے ،نہیں بلکہ اس سے پہلے والے یعنی دوسرے موڑ سے میںایک بار گلی میں داخل ہوا تو مجھے وہی نو سال والی بچی دکھائی دی۔اسے دیکھتے ہی مجھ پر کچھ گھبراہٹ سی طاری ہوئی لیکن اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔دوتین بار پھر انہیں دو گلیوں کے درمیانی حصوں میں سے گزرتے ہوئے ہماراآمنا سامنا ہوا۔میری گھبراہٹ اور اس کی زیرِلب مسکراہٹ دونوں ہی شرافت سے گزر جاتے رہے۔پانچ چھ سال گزر گئے اور ہمارا معمول ویسے کا ویسا ہی رہا۔میں نے دسویں پاس کرتے ہی شوگر مل میں نوکری کر لی۔وہ بڑی ہو کر پہلے سے بھی بہت زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی۔گورا چٹا رنگ،مناسب قدوقامت،تیکھے نقوش اور جادو بھری آنکھیں۔اب مجھ میں اتنی ہمت آ گئی تھی کہ گلی خالی ہوتی تو گزرتے ہوئے اسے معمول سے زیادہ دیکھ لیتا۔اتنی ہمت کے نتیجہ میں مجھے عجیب تجربہ ہوا۔کبھی لگتا تھا کہ مجھے دیکھ کر وہ محبت سے مسکرا تے ہوئے گزر رہی ہے اور کبھی لگتا غصے بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے۔میں نے پہلے اسے اپنا وہم سمجھا لیکن پھر اچھی طرح سے دیکھا کہ واقعی وہ کبھی غیر معمولی حد تک محبت بھری نظروں سے دیکھ کر مسکراتی ہوئی گزر جاتی تھی اور کبھی ماتھے پر گہرے بلڈال کر قہرآلود نگاہوں سے دیکھتی تھی۔لیکن ان متضاد رویوں کا بھید سمجھ میں نہ آیا۔تب ہی میں نے ایک افسانہ لکھا تھا”غریب بادشاہ“ اس میںمسرت اور(غصہ) خوف کی ان دو متضادکیفیات نے ایک اور تناظر میں یوں تخلیقی اظہار کیا تھا:
    ” ایک عجیب سا سازاُبھرتا ہے۔ مجھے لگتا ہے میں اس ساز سے واقف ہوں لیکن کچھ یاد نہیں پڑتا۔ عجیب سا ساز ہے،ایک لمحے روح کی پاتال تک اتر جاتاہے اور دوسرے لمحے میں خوفزدہ کردیتا ہے۔ مسرت اور خوف کی عجیب سی کشمکش۔۔۔“
  اس دوران مزید چارپانچ سال گزر گئے۔ہم اپنی انہیں مخصوص گلیوں میں سے گزرتے ہوئے بس ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے گزرتے رہے۔ہاں اب میری شادی بھی ہو گئی تھی اورمیں شعر بھی کہنے لگا تھا پھر روایتی شاعری سے بڑھ کر جدید شاعری کے کچے پکے تجربے بھی کرنے لگا تھا۔تب ہی اپنے اس معمول کے ملنے کو میں نے یوں بیان کیا تھا۔
ترے وصال کی یوں لذّتیں اٹھاتا ہوں
کہ روز ملتے ہیں قدموں کی آہٹوں کے بدن
   شادی کے بعد میںنے مبارکہ کواپنا ہم راز بنا لیا تھا۔وہ سارے راز جو بیویوں سے ہمیشہ چھپانے چاہئیں میں نے وہ سارے راز مبارکہ کو بتا رکھے تھے۔ایک دن پتہ چلا کہ وہ ایک اچھے پرائیویٹ سکول میں ٹیچر بن گئی ہے۔ہماری شوگر مل کے ملازمین کے علاج کے لئے ڈاکٹر ملک محمد اکبر کو ذمہ داری ملی ہوئی تھی۔اتفاق سے ٹیچر میم کے سکول کے ڈاکٹر بھی یہی تھے۔مزید اتفاق یہ ہوا کہ ایک بار ڈاکٹر کے کلینک میں مبارکہ اور ٹیچر میم کا ٹاکرا ہو گیا۔دونوں اچھی گپ شپ کر رہی تھیں۔مزید تعارف ہونے پر مبارکہ نے اپنے شوہر کے طور پر میرا نام بتایا تو مبارکہ کے بقول پہلے تو وہ سکتے میں آ گئیں پھر ایک دم اٹھ کر کلینک سے باہر چلی گئیں۔مبارکہ نے یہ قصہ مزے لے کر بتایا تھا اور بعد میں بھی کبھار ان کا کوئی ذکر ہوا تو مبارکہ نے ہنس کر کہا اچھا اچھا آپ کی وہ موم بتی۔۔۔بہرحال ٹیچر میم کے اس رویے سے یہ اندازہ تو ہو گیا کہ وہ مجھے بخوبی جانتی تھیں۔ لیکن یہ ردِ عمل محبت کے باعث تھا یا نفرت کے باعث؟ یہ سمجھ میں نہیں آسکا۔ایک بار اچانک دو میم ٹیچردیکھیں تو راز کھلا کہ وہ دو بہنیں ہیں،شاید جڑواں یا شاید ایک دو سال کے فرق والی لیکن دونوں بالکل ہم شکل ہیں۔۔۔چنانچہ پھر میں نے یہی اندازہ کیا کہ جو مسکرا کر دیکھتی تھی وہ وہی تھی جس نے دبنگ اندازمیں کہا تھا ”کون ہے اوئے حیدر؟“۔۔۔۔اور جو غصے سے دیکھتی تھی شاید اس کی وہ بہن ہو جسے اس نے اپنا ہم راز بنایا ہواور وہ اپنی بہن کی محافظ کے طور پر مجھے ایسے دیکھتی ہو۔لیکن معاملہ اس کے بر عکس بھی ہو سکتا ہے۔
 میم ٹیچر جو نو سال کی عمر میں ٹکرائی تھیں اب 67سال کے لگ بھگ ہو چکی ہوں گی۔انہیں یہ جان کر خوشی ہوگی کہ آدھی صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی اور زندگی کے کتنے ہی خوش کن ادوار سے گزرنے کے بعد بھی اور اب جرمنی میں بیٹھے ہونے کے باوجود بھی میں نے انہیں عزت اور محبت کے ساتھ پوری طرح یاد رکھاہوا ہے۔اسی لئے بعض باتیں معلوم ہونے کے باوجود جان بوجھ کر درج نہیں کیں کہ آپ کا پردہ رہے۔یہ سب کچھ بھی اس لئے لکھا کہ یہ بتا سکوں کہ نو سال کی عمر میںآپ نے دبنگ اندازمیں ”کون ہے اوئے حیدر؟“کہہ کر محبت کی جو موم بتی جلائی تھی۔میں نے ابھی تک اس موم بتی کو بجھنے نہیں دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

چھَلّا

کہانی کی کہانی

کار اور شیرنی