صوفی مجذوبہ

 صوفی مجذوبہ
 بس پیار کو بھی پیار کی حد تک ہی نبھائیں
دل، دل ہے کسی پِیر کی درگاہ نہیں ہے

وہ کہتی تھی میں نے اپنے اندر کے ملنگ کو قابو میں رکھا ہوا ہے۔لیکن اس کی بات بعد میں۔۔۔
 وہ مجھے سوشل میڈیا کے ایک فورم پر ملی تھی۔سوشل میڈیا کی دوستیاںاور محبتیں بس وقتی نوعیت کی ہوتی ہیں۔بعض لوگوں سے اچھے رابطے ہو جاتے ہیں۔ان کے ساتھ اچھا تبادلہ ¿ خیال ہوتا رہتا ہے۔ یہاں کوئی یہ سوچ کر کنڈی پھینکتا ہے کہ کہیں کوئی داو ¿ لگ جائے تو فائدہ اٹھا لوںتو یقین رکھیں کہ دوسری طرف کا بندہ یا بندی بھی اسی تاک میں ہوتے ہیں۔گویا ہر کوئی اپنی اپنی گھات لگائے بیٹھاہوتاہے۔ہر صیاد اپنے دام میں آپ ہی پھنس جاتا ہے۔ایسے لوگ پھر وعظ و نصیحت کرنے لگتے ہیں یااخلاقیات کے پیغامات جاری کرنے لگتے ہیں یا درد بھرے گیتوں سے اپنے دکھ درد کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔
 یہاں دکھاوے کے طورپرجوجتنا نیک ہے اندر سے اتنا ہی کمینہ اور بدمعاش ہے۔ایسے ماحول میں اگر کوئی سچ مچ کا مخلص اور سچا بندہ یا بندی مل جائے تو گویا خدا کی خاص عنایت ہو گئی۔
    صوفیہ مجھے سوشل میڈیا کے ایک میوزک فورم پر ملی تھی۔وہ سات سمندر پار کر کے ولایت پہنچی تھی۔لیکن لگتا تھا کہ وہ کسی اور ولایت کی دنیا کی بندی ہے۔پہلی ہی ملاقات میں جیسے ہم دونوں کے دلوں میںایک دوسرے کی طرف کوئی سگنل سے گئے تھے،جلترنگ جیسے سگنل،اور پھر” عشق کی ایک جست نے طے کر دئیے مرحلے تمام“۔اب ہم میوزک سے زیادہ تصوف پر باتیں کرتے تھے۔میں بیچ بیچ میں کچھ سائنسی انکشافات اور کچھ فلسفیانہ موشگافیاں بھی جوڑ دیتا تھا۔صوفیہ کی صوفیانہ باتوں کو سننے کے بعد میں نے اسے صوفیہ کی بجائے صوفی کہنا شروع کر دیا۔اس میں صوفیوں والی سر مستی تھی۔صوفی اور مجذوب کے درمیان کی لکیر پر وہ اپنی مستی میں لہراتی رہتی۔مجھے یہ دھڑکا رہتا کہ کہیں یہ تصوف کی حد سے نکل کر مجذوبیت کی حد میں نہ چلی جائے۔اوروہ شوخ ہو کر کہتی تھی کہ میں نے اپنے اندر کے مجذوب اور ملنگ کو قابو میں رکھا ہوا ہے ۔ یہ کہہ کر وہ پھر صوفی اور مجذوب کی مشترکہ اور باریک سی سرحد پر ،اپنی مستی میں لہراتی ہوئی ،رقص کرتی چلی جاتی۔
   ایک بار اس نے ایک مجذوب کا قصہ سنایا۔ایک عورت کے دو جوان بیٹے کسی سنگین مقدمے میں قید ہو گئے تھے۔اس نے ہاتھ جوڑ کر مجذوب سے کہا کہ میرے بیٹوں کو رہا کرانے کے لئے میری مدد کرو۔
مجذوب نے سرِ بازار جلالی اندازسے حکم دیا اپنی شلوار اتار دو۔بے چاری گھریلو سی عورت بہت پریشان ہوئی۔پھر ہچکچاتے ہوئے شلوار سے ایک ٹانگ نکال کرمجذوب کو مِنت بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔ مجذوب نے آنکھیں موند کر جیسے حکم صادر کیا۔۔۔ایک کو پھانسی اور ایک بری ۔۔ ۔ ۔ چنانچہ اس عورت کے ایک بیٹے کو سزائے موت ہو گئی اور ایک بری ہو گیا۔
   یہ قصہ سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی لیکن میں نے فوراََ اپنی ہنسی کو قابو کیا۔مجھے بہت سی جگتیں سوجھ رہی تھیں لیکن میں نے جگتوں کو روکا اور صوفی سے سیدھا سا سوال کر دیااگر تم اس عورت کی جگہ ہوتی تو کیا کرتی؟۔اس نے کسی جھجھک کے بغیر کہا میں فوراََ دونوں بیٹوں کی بریت کراتی۔ایک سیکنڈ کی دیر بھی نہ لگاتی۔اور پھر واقعی اس نے ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں لگائی۔میرے سارے گناہ اپنے سر لے کر مجھے ہر گناہ سے بری کر دیا۔صوفی کی ان کیفیتوں سے مجھے دو پریشانیوں نے آن گھیرا تھا۔ایک تو وہی جو ڈر تھا کہ یہ کبھی تصوف کی دنیا سے پھسل کر جذب کی دنیا میں جا سکتی ہے۔دوسری پریشانی یہ تھی کہ وہ ہمہ وقت مجھ پر مسلط رہتی تھی۔میں کھاناکھا رہا ہوں، نماز پڑھ رہا ہوں یا لکھنے کا کوئی کام کر رہا ہوں وہ ہر وقت سر پر سوار رہنے لگی تھی اور میں اس صورتِ حال سے بیزار ہوتا جا رہا تھا۔ یہ ہر وقت اس طرح کے ملنے سے بہتر ہے کہ ایک دوسرے میں سما جائیں تاکہ زندگی کے باقی کام تو آرام سے ہوتے رہیں۔صوفی نے ایک بار پوچھا کہ تم صوفی اور مجذوب میں فرق کیوں کرتے ہو؟یہ تو ایک ہی کیفیت کے دو رُخ ہیں۔
  تب مجھے اسے بتانا پڑا کہ صوفی اور مجذوب میں ایک اہم فرق ہے۔مثال کے طور پر اگر ایک صوفی اور ایک مجذوب کسی عمارت کی ساتویں منزل پر کھڑے ہوں۔نیچے ان کا محبوب آ جائے اور ان کا نام لے کر انہیں آواز دے تو دونوں اپنے محبوب کو دیکھیں گے۔صوفی محبوب کو اشارا کرے گا اور جواب بھی دے گا کہ ابھی آتا ہوں۔اور پھر وہ لفٹ یا سیڑھیوں کے ذریعے محبوب کی طرف روانہ ہو جائے گا۔صوفی کے برعکس مجذوب محبوب کی آواز سنتے ہی اور اسے دیکھتے ہی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا دے گا۔(نہ اپنے کام کا رہا ، نہ محبوب کے کام کا رہا)۔میری وضاحت سن کر صوفی خاموش ہو گئی۔لیکن مجھے اس کی خاموشی سے کچھ ڈر سا محسوس ہوا تھا۔
   پھر ایک دن لگا میرا ڈر درست تھا۔صوفی ایک عمارت کی ساتویں منزل پر کھڑی تھی اور میں نیچے سڑک پر تھا۔میں نے اسے دیکھ لیا تھا اور جان بوجھ کراسے دیکھ کر بھی انجان ہو گیا تھا۔وہ پاگل پن میں کچھ بھی کر سکتی ہے۔لیکن اس نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اور خود ساتویں منزل سے زور سے میرا نام لے کر مجھے پکارا تھا۔مروتاََ مجھے بھی جواب میں ہاتھ ہلانا تھالیکن ہاتھ ہلاتے ہوئے مجھے خوف تھا کہ وہ اوپر سے زمین پر چھلانگ نہ لگا دے۔صوفی نے جواباََ زور زور سے ہاتھ ہلایا اور پھر جیسے وہ لفٹ کی طرف چلی گئی۔شاید وہ لفٹ کے ذریعے نیچے آ رہی ہے۔
  میں کافی دیر انتظار کرتا رہا لیکن صوفی نہیں آئی۔اوپر کی ساتوں منزلیں چیک کر لیں۔صوفی تو نہیں ملی لیکن ساتویں منزل پر ایک ایسی لفٹ مل گئی جو عمارت کی دوسری طرف اتارتی ہے۔بعد میں پتہ چلا کہ اس کی تیاری پہلے سے مکمل تھی،ہاتھ اس نے مروتاََ ہلایا تھا،اس کی فلائیٹ طے تھے اور دوسری طرف سے اس نے ائیرپورٹ کی ٹیکسی بھی بلا رکھی تھی۔چنانچہ وہ سات سمندر پارکر کے جہاں سے آئی تھی،وہیں واپس چلی گئی۔لیکن میں اسے سات منزلہ عمارت یا سات سمندر پاراِدھر یا اُدھر ڈھونڈنے کی بجائے سات زمینوں اور سات آسمانوں میں ڈھونڈ رہا ہوں۔
مجھے معلوم ہے کہ وہ کہیں خلا میں اٹک گئی ہے،پھر بھی میں اسے سات زمینوں اور سات آسمانوں میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں۔
اس نے درست کہا تھا کہ اس نے اپنے اندر کے ملنگ کو قابو میں رکھا ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Comments

Popular posts from this blog

چھَلّا

کہانی کی کہانی

کار اور شیرنی