خاکہ نما "بلا عنوان" (فرحت نواز)


حیدرقریشی (جرمنی)

بلا عنوان

            گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل۔۔۔۔۔آج ایک ایسی شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں جن پر نوّے کی دَہائی میں لکھنا چاہتا تھا،لیکن حالات نے ایسی کروٹ لی کہ احتیاط کرنا پڑ گئی۔۔۔ایسی شخصیت کہ جن پر بہت کچھ لکھ سکتا ہوں۔لیکن اب لکھنے لگا ہوں تو جیسے ہاتھوں میں ہتھکڑی سی لگ گئی ہے۔پھر بھی لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ان کا نام فرحت نواز ہے۔اردو کی بہت اچھی لیکن خاموش طبع شاعرہ ہیں۔17 جون 1957 ء کو ڈیرہ نواب صاحب میں پیدا ہوئیں۔ڈیرے کا ریلوے سٹیشن احمد پور شرقیہ ہے۔ فرحت نواز نے پہلے ایم اے اکنامکس کیا،پھر ایم اے انگریزی کیااوردسمبر 1984 ء کو گورنمنٹ گرلز کالج علی پور میں انگریزی کی لیکچرر ہو گئیں۔پھر19.09.1987  کو گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجوایٹ کالج رحیم یارخان میں ٹرانسفر کرا لیا ۔اسی کالج میں باقی کی ساری تدریسی زندگی گزار دی۔شعبہ انگریزی کی ہیڈ بنیں، کالج کی وائس پرنسپل بنیں اور اگست 2017 ء کو ریٹائر ہو گئیں۔

        فرحت نوا زکا شعری مجموعہ’’استعارہ مِری ذات کا‘‘ان کی شعری پہچان ہے۔انہوں اردو افسانوں کے سرائیکی ترجمے کرکے’’منزلاں تے پندھیڑے ‘‘ کے نام سے کتاب شائع کی تھی۔پھر ڈاکٹر وزیر آغا کی منتخب نظموں کے ترجموں کی کتاب ’’ڈاکٹر وزیر آغا دیاں چونڑویاں نظماں‘‘مرتب کی۔اردو افسانوں کا ایک انتخاب’’ 1980 کے منتخب افسانے‘‘  شائع کیا۔متفرق ادبی مضامین بھی لکھتی رہیں جوادبی جریدہ ’’اوراق‘‘ لاہور سے لے کر روزنامہ ’’امروز‘‘ملتان اور روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ملتان اور لاہور تک چھپتے رہے۔اپنے کالج کے میگزین ’’لمعہ‘‘ کے انگریزی سیکشن کی نگران مدیر رہیں۔اور ’’ جدیدادب‘‘خان پور کی 1978 ء سے 1986 ء تک شریک مدیر رہیں۔

       یہاں تک لکھنے کے بعد سوچ رہا ہوں کہ یہ کوئی سوانح عمری ترتیب دے رہا ہوں یا خاکہ نما لکھ رہا ہوں؟

۔۔۔مجھے کیا ہو گیا ہے۔

      جب ہم لوگ رحیم یار خان میں رہتے تھے، تب فرحت نواز کے والد بھی وہیں وٹرنری ڈاکٹر تھے۔اور فرحت نواز کی امی اور میری امی کا تھوڑا بہت ملنا جلنا تھا۔شاید میں نے تب ہی چار سال کی فرحت نامی ننھی منی سی بچی کو دیکھا تھا۔پھرہم لوگ رحیم یار خان سے خان پور چلے گئے توفرحت کے والد کا تبادلہ بھی خانپورمیں ہو گیا۔ماؤں کا ملنا جلنا تو یہاں بھی رہا لیکن فرحت کا سامنا کہیں نہیں ہوا۔لیکن نام ذہن میں کہیں نہ کہیں تھا۔پھر یوں ہوا کہ خان پور سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری کیا گیا، ’’صدائے عوام‘‘ خان پور۔یہ  غالباََ1967 ء کاسال تھا۔پہلا شمارہ دیکھا تواس میں فرحت کی کوئی تحریر چھپی ہوئی تھی۔گویا فرحت کی کوئی آن ریکارڈ تحریر انہوں نے دس سال کی عمر میں لکھی تھی۔نام پڑھتے ہی اپنی پانچ چھ سال کی عمر کی پرچھائیاں سی لہرانے لگیں اور میں نے بیٹھے بیٹھے ہی ’’صدائے عوام‘‘ کے لیے کوئی صدائے دل قسم کی چیز لکھ لی اور اسے لکھتے ہی اخبار کے ایڈیٹر کے پاس پہنچ گیا۔اگلے ہفتے کے اخبار میں میری تحریرچھپ گئی۔یہ گویاہم نے ذہنی طور پر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ادبی زندگی میں فرحت آگے آگے تھیں اور میں ان کے پیچھے پیچھے۔ایک گانا یاد آ گیا۔

دیوانہ مجھ سا نہیں اس امبر کے نیچے   

    آگے ہے قاتل میرا اور میں پیچھے پیچھے

پرچھائیاں اسکیچ جیسی لکیروں میں ڈھلنے لگی تھیں۔اور پھرتین سال کے بعد یک دم پورا اسکیچ بن گیا۔

آپ چودہ برس کی تھیں اور میں لگ بھگ انیس برس کا،جب ہمارا پہلا براہِ راست ٹاکرا ہوا تھا۔یہ دسمبر1970 ء کی کوئی تاریخ تھی۔ملک بھر میں قومی اسمبلی کے انتخاب ہو چکے تھے ۔مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ بھاری اکثریت کے ساتھ جیت چکی تھی۔مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اکثریت حاصل کر چکی تھی۔دو تین دن کے وقفے کے بعد صوبائی اسمبلی کے انتخاب تھے۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول خان پور میں خواتین کا پولنگ سٹیشن تھا۔پیپلزپارٹی کے بیرونی کیمپ میں دیگر لوگوں کے ساتھ میں بھی ڈیوٹی دے رہا تھا۔ساری کاروائی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ اچانک لگا اسکیچ کی لکیروں نے مکمل سکیچ بنادیا ہے۔چار سال کی ننھی منی فرحت دس سال کا جمپ لگا کر میرے سامنے تھیں۔چار پانچ لوگوں کے موجود ہونے کے باوجود وہ براہِ راست مجھ سے مخاطب تھیں۔اندر فریق مخالف کی عورتیں جعلی ووٹ ڈلوا رہی ہیں۔فرحت دھاندلی کے بارے میں کچھ بتا رہی تھیں لیکن میں تو صرف انہیں دیکھ رہا تھا۔جواب میں انہیں کیا تسلی دی اور کیا کاروائی کی کچھ یاد نہیں ۔شام تک نتیجہ آیا تو پیپلزپارٹی یہ سیٹ ہار گئی تھی لیکن میں اپنی سیٹ جیت چکا تھا۔ہم پرچھائیوں سے بہل جانے والوں کو اسکیچ ہی نہیں پوری تصویرمل گئی تھی اور تصویر بھی متحرک۔

      اس کے بعد آٹھ سال گزر گئے۔اس دوران فرحت کے والد کا تبادلہ پھر رحیم یار خان میں ہو گیا۔1978 ء میں ’’جدیدادب‘‘خانپور کے اجراء کا پروگرام بنا تو مجھے احساس تھا کہ فرحت نے مجھ سے پہلے چھپنا شروع کیا تھاچنانچہ میں نے جھجکتے ہوئے انہیں ایک خط لکھ دیاجس میں ’جدیدادب‘جاری کرنے کی خبر کے ساتھ انہیں شریک مدیر کے طور پرشامل ہونے کی دعوت دی۔جواب بہت جلدی موصول ہوا۔انہوں نے میری دعوت قبول کر لی۔’’جدیدادب‘‘خانپور اپنی دھیمی رفتار سے نکلنے لگا۔فرحت کی بہت ہی عزیز سہیلی پروین عزیز خان پور میں رہتی تھیں۔پروین میری استاد زادی بھی ہیں۔دونوں  اور یونیورسٹی تک ایک ساتھ رہیں،ایک ساتھ لیکچرر بنیں اور ایک ساتھ ہی ایک جیسی حیثیت کے ساتھ ریٹائر ہوئیں۔پروین خان پور میں تھیں تو فرحت کو کبھی کبھار پروین سے ملنے آنا ہوتا تھا۔اسی بہانے ہمارے ہاں بھی ملنے آ جاتی تھیں۔میرا سارا گھر ان سے مانوس تھا ۔میں اور مبارکہ بھی ایک دو بار ان کے رحیم یار خان والے گھر میں گئے تھے۔فرحت جب بہاول پور یونیورسٹی میں داخل ہوئیں تو میرا بہاول پور آناجانا زیادہ ہو گیا۔پھر ایک بار ہمارا کسی ٹی وی پروگرام میں شرکت کے لیے لاہور جانا ہوا۔لیکن سیکیورٹی فورس کے طور پر فرحت کی پانچ چھ سہیلیاں بھی ساتھ تھیں اور اس سیکیورٹی فورس کی چیف پروین عزیز تھیں۔

      پروین عزیز ہمیشہ فرحت کی راز دار دوست رہی ہیں۔اس عرصہ میں میری اور فرحت کی دوستی اتنی ہو گئی تھی کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مسائل اور اپنی باتیں آسانی کے ساتھ شیئر کر لیتے تھے۔شاید اس اعتماد میں مجھے پروین سے نسبتاََ زیادہ اہمیت مل گئی تھی۔ فرحت نواز کو علی پور میں لیکچرر کی جاب مل گئی تو میرا بہاول پورآنا جانا ختم ہو گیا۔پھر کبھی کبھارعلی پور چلا جاتا تھا۔عموماََ فرحت ویک اینڈ پر والدین کے پاس رحیم یار خان جایا کرتی تھیں لیکن مہینے میں ایک آدھ بار ہمارے ہاں بھی آ جاتی تھیں۔یہاں مبارکہ اور بچے ان کی آمد کے منتظر رہتے تھے۔1986 ء میں اباجی کی وفات کے بعد میں بیک وقت شدیدسماجی اور فکری تلاطم کی زد میں آ گیاتھا۔تب ہمارارابطہ کمزور پڑ گیا۔

چناں قحط سالے شد اندر دمشق     

   کہ یاراں فراموش کردند عشق 

      اپنے سماجی اور فکری تلاطم کے تھپیڑوں میں بہتے ہوئے بلکہ غوطے کھاتے ہوئے اطلاع ملی کہ فرحت نے شادی کر لی ہے۔ممتازشیخ سے فرحت نے مجھے پہلے سے ملوایا ہوا تھا۔ سو گھر آباد ہونے کی دعا کر لی۔1990 ء میں مجھے ایبٹ آباد میں ایک بہت اچھی جاب مل گئی اور میں بچوں سمیت وہاں چلا گیا۔اسی دوران فرحت نے اپنی ایک انڈونیشیا نژاد سہیلی ایڈا (سعیدہ)کے ذریعے میرے لیے اپنی شادی کی تصویروں کی البم بھجوائی۔میں ایبٹ آباد جا چکا تھا،چنانچہ البم فرحت کو واپس بھیج دی گئی۔

اباجی کی وفات کے ساتھ ہی میں نے ان کا خاکہ لکھا اور یوں میری خاکہ نگاری کی ابتدا ہوئی۔امی جی کا خاکہ لکھنے کے بعد میں نے خاکوں کے مجموعہ’’میری محبتیں‘‘کا نقشہ سا بنا لیا تھا۔اس میں فرحت کا خاکہ لکھنا ناگزیر تھالیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ قریبی رشتہ داروں،بزرگوں کے خاکوں کے باوجود اس کتاب میں فرحت کا خاکہ شامل کرناشاید ان کی نئی نئی ازدواجی زندگی کے لیے مناسب نہیں ہو گا۔چنانچہ خاکہ لکھنے سے رک گیا۔دس رشتہ داروں اور دس احباب کے خاکوں کے مجموعہ’’میری محبتیں‘‘میں احباب کے حصے کا سب سے پہلا خاکہ فرحت نواز کا ہونا تھالیکن قسمت کو یہی منظور تھا کہ جو سب سے پہلا تھا اس کا خاکہ سب سے آخر میں اور عمر کے آخری حصے میں لکھا جائے۔لیکن یہ خاکہ کہاں ہے؟ جو لکھنا چاہتا ہوں پوری آزادی سے لکھ نہیں سکتا،جو نہیں لکھنا چاہتا تھا وہ سارا لکھ دیا ہے۔جب میں جرمنی میں آگیاتب فرحت سے رابطہ بحال ہوا۔ایک یونیورسٹی ریسرچر کو میرے ادبی کام  پر مقالہ لکھنا تھا۔اس نے میرے دیگر احباب سمیت فرحت سے رابطہ کیا۔کچھ تحریری سوال کیے،فرحت نے بڑی توجہ اور محبت کے ساتھ ان سوالوں کے جواب لکھے۔اوریوں ہمارا رابطہ بحال ہو گیا۔میرے بچے جب پاکستان جاتے تو ان سے اور ان کی فیملی سے مل کر آتے۔میں جرمنی سے ’’جدیدادب‘‘جاری کر چکا تھا۔میں نے انہیں پھر شریک مدیر کے طور پر شرکت کی پیش کش کی لیکن شاید ان کی گھریلو مصروفیات انہیں مہلت نہیں دے رہی تھیں۔چنانچہ میں نے ان کی مصروفیات کا احترام کر لیا۔ 

      فرحت کے شوہر شیخ ممتازحسین فوت ہو چکے ہیں۔فرحت کے بیٹے اور بیٹی دونوں کی شادی ہو چکی ہے۔بیٹا ابریز اپنی بیگم نایاب کے ساتھ دبئی میں مقیم ہے۔اور غزنہ کی ابھی ابھی اسلام آباد میں شادی ہوئی ہے۔زندگی کی اہم ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد فرحت اب پُر سکون ہیں۔ان کی بہو دبئی میں قیام کے باوجود وقتاََ فوقتاََ ابریز کو لے کر فرحت سے ملنے آ جاتی ہے۔ یوں فرحت کو ساس کا کردار ادا کرنے کی سہولت مل جاتی ہے۔اللہ فرحت کو اور ان کے سارے بچوں کو یعنی بیٹی،داماد ،بیٹے اور بہو سب کو آباد اور سرسبزوشاداب رکھے، آمین۔اور درویش کی دعا کیا ہے!۔۔۔۔۔۔فرحت نواز کا شعری مجموعہ’’استعارہ مِری ذات کا‘‘ شیخ ممتاز حسین کی زندگی میں شائع ہوا تھا۔شیخ ممتاز حسین کو شعروادب سے زیادہ لگاؤ نہیں تھا پھر بھی انہوں نے اس مجموعے کو پسند کیا تھا۔فرحت نے اس مجموعے کا انتساب شیخ ممتاز کے نام کیا تھا۔بہت اچھا کیا تھا۔تاہم اس انتساب کے توصیفی الفاظ پڑھ کر پروین عزیز نے فرحت کوفون کرکے بہت برا بھلا کہاتھا۔یہ دو سہیلیوں کا آپس کا معاملہ ہے میں اس پر کیا کہہ سکتاہوں۔  

        باتیں بہت ساری ہیں۔۔۔لگتا ہے اب کچھ روانی آنے لگی ہے لیکن ابھی میں اس تحریر کو یہیں مکمل کرتا ہوں۔۔۔اسے فرحت نے خود بھی پسند کیا اور ان کے بچوں کو بھی اچھا لگا تو شاید اس کا دوسرا حصہ بھی لکھا جا سکے اور شاید تیسرا حصہ بھی اور شاید۔۔۔پتہ نہیں اور کتنے شاید۔۔ڈاکٹروزیرآغا کا شعر یاد آگیا۔

جو دل میں پھانس تھی وہ رہ گئی ہے       

  بیاں سب کچھ وگرنہ ہو گیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔











Comments

Popular posts from this blog

چھَلّا

عندلیب۔۔رشتوں کی کاک ٹیل

تین طوفانی محبتیں